Home / Article / History of Isaf & Naila || یہ کہانی ہے ایک مرد اور ایک عورت کی

History of Isaf & Naila || یہ کہانی ہے ایک مرد اور ایک عورت کی

اس آرٹیکل کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتابوں کے علاوہ دوسری کئی کتابوں  سے مدد لی گئی ہے زیا اننبی جلد اول سیرت ابن حشام البدایہ  والنہایہ تاریخ ابن کثیر اسلام و علیکم دوستوں فتح مکہ کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور وہاں موجود تمام تصاویر کو باہر نکال دیا ان تصاویر میں حضرت ابراہیم علیہ سلام کی تصویر بھی شامل تھی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی کے ساتھ مل کر   خانہ کعبہ میں موجود چھوٹے بڑے تمام بتوں کو توڑ ڈالا آپ توڑتے جاتے اور یہ ورد کرتے جاتے  حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل نے مٹ جانا تھا یہاں تک کہ خانہ کعبہ کو شرک کی تمام نشانیوں سے پاک کر دیا گیااس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ پر موجود  دو بت جن کے نام اسراف اور نائلہ تھے وہ بھی توڑ ڈالے مگر دوستو ایک  عجیب بات یہ ہے کہ یہ دونوں بت انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے

تراشیدہ بدت  نہ تھے بلکہ ایک مرد اور ایک عورت تھی جو کہ ایک انتہائی غلیظ گناہ کا شکار ہوکر رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بن گئے آئیے  ان کے اس عبرت ناک واقعے پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب حکم خداوندی ملا کہ مکعےکی طرف جاو  تو آپ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت حاجرہ علیہ السلام کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے اُس وقت نہ  تو یہاں کوئی عمارت تھی نہ کوئی رہتا تھا اور نہ ہی یہاں پر پانی موجود ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور اپنے بچے کو یہیں چھوڑ کر واپس چلے گئے دوسری مرتبہ جب واپس آئے تو قیام نہ کیا لیکن جب تیسری مرتبہ آپ واپس آئے تو اپنے بیٹے اسماعیل کو ساتھ ملاکر اللہ کے حکم سے اس جگہ بیت اللہ کی تعمیر کی یہی بیت اللہ آج مسلمانوں کا قبلہ ہے کہ جس کی طرف منہ کرکے مسلمان عبادت کیا کرتے ہیں یہ دین اسلام کا مقدس ترین مقام ہے صاحب حیثیت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے یہ اس لئے ہے تاکہ انسان کو حرمت  کعبہ سے آگاہی ہواور وہ دل و جان سے اس کا احترام کرے اس کے بے مثال مقام و مرتبے کو سمجھے ہر موقع پر اس کی حرمت کے تقاضوں کو ملحوظ نظر رکھیں اور کوئی ایسی مذموم حرکت نہ کرے جو اس کی حرمت وعظمت کے منافی ہو  گزشتہ ادوار میں جن افراد نے اس کی حرمت کو پامال کیا یا

History of Isaf & Naila

اس کی کوشش کی تو  قدرت کے نہ نظر آنے والے   ہاتھوں نے انھیں مروڑ کر رکھ اور اس طرح شکنجے میں کسا کے وہ عبرت کا نشان بن کر رہ گئے ابراہا اور اس کے ہاتھیوں کا حشر قرآن پاک میں بھی مذکور ہے احادیث و تاریخ میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن سے حرمت کعبہ کی پرواہ نہ کرنے والوں کے عبرت ناک انجام کا پتہ چلتا ہے ان میں سب سے عبرت ناک مثال ایساف اور نائلہ کے بتوں کی ہے ان کا قصہ یہ ہے کہ اہد جاہلیت میں ایساف  قبیلےبنی جرہم کا ایک مرد تھا  جس کا پورا نام اسحاق بن یالا  تھا اور نیلا ایک عورت تھی اس کا پورا نام نائلہ بنت زیدتھا قبیلے سے تھیں قبیلہ جرھم وہ قبیلہ تھا کہ جو سب سے پہلے مکہ میں آکر آباد ہوا تو یہ قبیلہ بیت اللہ شریف کے اعتراف میں ہی رہا کرتا تھا لیکن بعد میں شکست خوردہ ہو کر یہ یمن میں جابسا اب یہ دونوں یعنی ایساف اور نائلہ یمن میں ہی رہا کرتے ان کے بیچ ناجائز تعلقات تھے ایک مرتبہ قافلے کے ساتھ حج کرنے دونوں مکہ آئے اس اسنا مکہ میں داخل ہوئے کہ وہاں اور کوئی آدمی موجود نہ تھا اس تنہائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان دونوں نے خانہ خدا میں بدفعلی کا ارتکاب کیا اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ دونوں پتھر کے بن گئے جب دوسرے لوگ خانہ کعبہ کے اندر گئے اور انہیں اس حالت میں پتھر بنے دیکھا تو لوگوں نے انہیں خانہ کعبہ سے اٹھایا اور باہر لا کر رکھ دیا تاکہ آنے جانے والے لوگ ان کے درد ناک انجام سے عبرت حاصل کریں لیکن دوستو اس عمل  کا نتیجہ کچھ اور ہی نکلا  مکہ کے لوگوں نے ایساف  کے بدت کو اٹھاکر صفا

History of Isaf & Naila

کے مقام پر رکھ دیا جبکہ نائلہ کے بدھ کو مروا کے مقام پر اور ان کے سزا یہ تجویز کی گئی کہ جو بھی شخص صفا و مروہ پر اور ان کی یہ سزا تجویز کی گئی کہ جو لوگ بھی صفا اور مروہ پر  جائے ان دونوں کے ایک جوتا رسید کرے ایک دو نسلوں تک تو یہ عمل جاری رہا بھر لوگوں نے جوتے کے بجائے تھپڑہ   رسید کرنا شروع کردیئے کچھ نسلوں بعد لوگ انہیں صرف ہاتھ لگایا کرتے یعنی رفتہ رفتہ لوگوں نے ان سے عبرت حاصل کرنا کم اور انہیں پوجنا زیادہ شروع کردیا یہاں تک کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دور تک یہ دونوں بت بڑے بتوں میں شمار کئے جاتے لوگ ان کے آگے   سجدے کیا کرتے اور قربانی بھی چڑھاتے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے بعد یہ بت توڑ دئے گئے تو تم مسلمانوں کے دلوں میں یہ سال کھٹکنے لگا کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج کے اصل مناسک میں سے ہے یا یہ محض مشرکانہ دور کی ایجاد ہے چنانچہ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں کی اس غلط فہمی کو دور کرکے صحیح بات کی رہنمائی فرما دیں ترجمہ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرےتو بے بیشک اللہ قدردان جاننے والا ہے لہذا آج ہر مسلمان جو حج یا عمرے کی سعادت حاصل کرتا ہے  وہ صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ چواف  کرتا ہے جو کہ مناسک حج میں شامل ہیں دوستو اس کے علاوہ بھی  تاریخ میں ایسے واقعات کی کمی نہیں کہ جو لوگ بیت اللہ شریف کی بے حرمتی میں ملوث ہوئے عبرت کا نشان بن گئے اللہ پاک ہم سب کو نیک راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

In English :

In addition to the following books, in addition to the following books, many other books have been taken out by Zia Aninbabi, the first Syrians ibn Hisham al-Baqiya volunteer history, Ibn-ul-Islam and al-Fayyam, after the victory of Fatima, entered the Ka’bah in the Ka’bah. He took out all the pictures there. These pictures included the picture of Hazrat Ibrahim (peace be upon him). After that, the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) combined with all the small idols in the Ka’ba You broke it and you came to it right, and it came to pass right, and the falsehood came to ruin. Even the Ka’bah Kaaba was cleansed from all the signs of Shirk. After that, the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) broke the two dots on Safa and Marwah whose names were Asraf and Nailah, but it was a strange thing. That both of these idols were not scary with humans’ hands, but there was a

History of Isaf & Naila

man and a woman who became a sign of a lesson to the world while living in a very poor sin, gives some light on this chronic incident. When Ibrahim came to the command of God to go to the Cave, you were the son of Ishmael and Hazrat Haji There was no building here or there, and there was no water here, and there was no water available here, Abraham left his wife and his child here and returned, the second time he did not stay there. When the third time you come back, the son of Allah, the one who worships Muslims by turning towards the house of Allah, together with the son of Allah, with his son Ishmael, is the sacred place of Islam. It is obligatory to perform Hajj pilgrimage once on a Muslim in life, that is, it is for man to know

History of Isaf & Naila

from the holy Prophet. And he respects with heart and soul, look at his unique position every time he understands the status of his sacred requirements and does not take any action against him who is a hypocrisy of his worship, in the last period. When people tried to harass their sanctuary or tried it, they would not have been able to bury them, and they were like a sign of torture in such a way that they were a sign of torture and Abraham’s wrath. It is also mentioned in the Hadith and history that there are many events that reveal the unseen prophecy of those who do not care about the holy Quran. For example, the narrative of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “The Messenger of Allah (peace and blessings of Allaah be upon him) said:” I am the Messenger of Allah, and I am the Most High, the All-Knower of the heavens and the earth. ” It was a tribe that first settled in Makkah and

History of Isaf & Naila

settled in Mecca, this tribe used to remain in confession of Baitullah Sharif, but after becoming defeat it was Jabsa in Yemen, both of them, namely ISAF and Nihal Yemen. The Beach was illegally connected, once again both Makkah came to Mecca, to enter Mecca where there was no man there. By taking advantage of isolation, both of them committed evil in the house of God, the punishment of Allah came down and they both became stones when other people went inside the Ka’bah and saw them becoming stones in that situation, so people from the Ka’bah Ka’ba Picked up and put them out so that the coming people would get lessons from their painless deeds, but the result of this process resulted in something else. The people of Mecca raised the horoscope of ISAF and kept it at Safa, whereas Nilea’s Buddha On the spot of corpse and punishment, it was suggested that any person who was illiterate and his punishment was suggested that whoever Go to Fay and Marwa, give two of them a shoe, for two generations, the process continued, but the people began to invade Thapa instead of shoes, people would have put them in hand, instead, people get lesson from them. To reduce and do not start worshiping them even until the time of Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) till the time of Holy Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him), they were counted in two idols, and they used to prostrate themselves before them and

History of Isaf & Naila

offered sacrifices after breaking the idol after the arrival of Holy Prophet If you were given, you started breaking this year in the hearts of the Muslims, in the true form of Saheeh Hajj between Safa and Marwa. This is simply invention of Mushrikah, therefore by this verse, Allah should remove the misunderstanding of the Muslims and guide them to the right path. Indeed, Safa and Marwa are among the signs of Allah, so that the pilgrimage of Ka’bah It is not permissible for him to circumcise them, and whoever does good in his pleasure, surely, Allah is Knower of all things. Therefore, every Muslim who enjoys Hajj or Umrah, today is seven times between Safa and Marwa. It is a matter of fact that there is no lack of events in the history of people who are innocent of Beth-Sharif Sharif.

About Muddasar Nadeem

Check Also

Biography of Queen Ankhesenamun || یہ کہانی ہے مصر کی ایک لڑکی کی

Biography of Queen Ankhesenamun السلام علیکم دوستوں مصر فرعونوں کی سرزمین ایک ایسی سرزمین جس …

Leave a Reply

error: Content is protected !!