Home / Article / یہ کہانی ہے ایک ایسے شہر کی جس میں فحاشی عروج پر تھی Unknown History of Pompeii

یہ کہانی ہے ایک ایسے شہر کی جس میں فحاشی عروج پر تھی Unknown History of Pompeii

اسلام و علیکم دوستو آپ کوئی سا بھی شہر میں رہتے ہو شہر چھوٹا ہو یا بڑا ہر بستی ہر آبادی میں ایک ریڈ لائٹ ایریایعنی وہاں فحاشی کا مرکز ضرور موجود ہوتا ہے لیکن کیا کبھی آپ نے کسی ایسے شہر کی کہانی سنی ہے کہ جو پورا کا پورا ہی ریڈلائٹ ایریا یعنی فحاشی کا مرکز ہو یہاں تک کہ اس شہر کے جانور بھی اس عملی بد سے محفوظ نہ ہو تو چلیے جانتے ہیں اس شہر کے بارے میں اٹھارویں صدی عیسوی کے دوران ایک کسان جو اٹلی کے ایک بنجر و ویران علاقے میں رہا کرتا یہاں پانی ایک نعمت کا درجہ رکھتا تھا ایک دن اس کے سامنے اس

بنجر زمین میں کنواں کھودنے کی ٹھانی دوستوں اس کنویں سے پانی تو نہ نکلا لیکن کچھ ایسا برآمد ہوا جس کی تلاش صدیوں سے جاری تھی ایک گمشدہ شہر اپنے دور کی شاندار بستیوں میں سے ایک جس کی تلاش ماہرین کو دو ہزار سالوں سے تھی یہ شہر جس قدر حیرت انگیز ہے اسی طرح اس کی کہانی بھی نہایت حیرت ناک ہے یہ شہر تھا رومن ایمپائر کے بڑے تجارتی مراکز میں سے ایک ہےپومپایئ یہ شہر ساتویں صدی قبل مسیح کے دوران یعنی حضرت داود علیہ السلام کے دور میں آباد ہوا مختلف ادوار میں مختلف قوموں کے زیرنگیں رہنے کے بعد رومن ایمپائر کے تسلط میں آیا جس نے ترقی کی ایسی منازل طے کیں کہ یہ اس وقت کی دنیا کے عظیم ترین کاروباری شہروں میں شمار ہونے لگا کاروبار

کاروبار لیکن جسموں کا عظمتوں کا اور لذتوں کا دوستو آپ نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ تو ضرور سن رکھا ہوگا کہ جب آپ علیہ السلام کی قوم ہم جنس پرستی کی لعنت میں مبتلا ہوگی تو اللہ تعالی نے اس قوم یعنی سدوم نامی شہر پر پتھروں کی برسات کر کے انہیں نیست و نابود کر دیا ایسا ہی کچھ معاملہ پمپری کے ساتھ بھی تھا لیکن پمپی جنسی سرگرمیوں اور غیر اخلاقی حرکتوں میں گزشتہ اور آئیندہ تمام قوموں سے آگے نکل چکا تھا یہاں عورتیں عورتوں سے مرد مردوں سے یہاں تک کہ جانوروں اور بچوں کے ساتھ جنسی تعلق بنانا بھی معمولی عام تھا اس شہر کے ہر دوسرا گھر سے لائی گئی لڑکیاں اپنا جسم فروخت کرنے پر مجبور ہوتی جسم فروشی اس شہر کا کا بنیادی پیشہ اور معیشت کا اہم ستون بن چکا تھا ایک جسم فروش عورت ایک مزدور سے کئی گنا پیسا کما لیتی اس کے علاوہ کمائی کا دارومدار خوبصورتی عمراورخواہش پر تھا کئی مرد بھی اس کام میں پیش پیش تھے جو جسم فروشی اور گناہوں کی اس لعنت میں زیادہ مبتلا ہوتا اتنی ہی زیادہ عزت کا حقدار تھا بڑے بڑے رومن افسروں کی بیگمات اس پیشے سے وابستہ تھیں جس پر شرم تو درکنار

الٹا فخر کیا جاتا اس شہر کے کھنڈرات سے ملنے والی تصاویر اس قدر بے ہودہ اور فحش ہیں کہ شریف لوگ اپنے کانوں کو ہاتھ لگا لیتے ہیں جبکہ پومپی کی دیواروں پر لکھے غیر اخلاقی و غیر فطری شاعری کی مثال ماضی و مستقبل کہیں نہیں ملتی یہ دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں مشترکہ غسل خانوں کی ایجاد ہوئی ان غسل خانوں میں مرد و عورت بیک وقت نہایا کرتے چنانچہ غسل خانے کم اور قحبہ خانے زیادہ تھے ویسے تو پومپی شہر میں بے شمار قحبہ خانے تھے جو کہ پوشیدہ نہ تھے بلکہ قحبہ خانوں کی بے ہودہ علامات سڑکوں اور مکانوں کی دیواروں پر آج بھی باآسانی دیکھی جاسکتی ہیں لیکن شہر کے بیچوں بیچ قائم تھا دنیا کا سب سے قدیم اور سب سے بڑا بروتھل یعنی فحاشی کا مرکز لوپن آرا ، لوپن آرا کا مطلب ہے ما

دہ بھیڑیےےہ ایک دو منظلہ عمارت تھی جس کا نچلا حصہ کئی کمروں پر مشتمل تھا یہ حصہ عام لوگوں کے لیے مخصوص تھا جبکہ عمارت کے اوپری حصے میں شہر بھر کی اشرفیاں جمع ہوتی اور انتہائی فحش واغلیظ محافل کا انعقاد ہوا کرتا جہاں بہن بھائی باپ بیٹی تک کی کوئی تمیز نہ تھی حیوانیت کی حدوں سے بھی گر چکے تھے ایک آتش فشاں پہاڑ یعنی ماونٹ وسوویت کے دہانے پر واقع ہونے کے باوجود یہ شہر ہر قسم کے خطروں سے بے نیاز اپنی رنگ رلیوں میں مصروف تھا وہ فکر کرتے ہیں کیونکہ وہ یہاں پچھلے سات سو سالوں سے آباد تھے لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے اسی سال بعد ایک دن دوپہر میں یہ آتش فشاں اس قدر شدت سے پھٹا کے آسمان میں دور دور تک اس کی راکھ اور پتھر اڑنے لگے کچھ دیربعد یہ لاکھوں ٹن راکھ اس شہر پر آگری اس شہر کے تیس ہزار افراد موقع پر ہلاک ہو گئے کچھ لوگوں نے سمندر کے راستے بھاگنے کی کوشش

کی لیکن آتش فشاں کے لاوے نے ان کو بھی نہ بخشا مزید اگلے تیں دن تک آتش فشاں لاوا آگ اگلتا رہا اس کے ٹھنڈا ہونے کے بعد اس مقام کی تلاش تک ناممکن ہوگی کہ جس جگہ یہ شہر آباد تھا اب یہ تمام علاقہ صرف اور صرف راکھ کا ایک ڈھیر تھا صرف 748 عیسوی میں ایک دن یہ شہر حادثاتی طور پر دریافت ہو گیا وہ بھی اس طرح کے کھیل

کے میدان مارکیٹنگ ریاض عباس شہر کے مکینوں پر اس وقت نازل ہوا کہ جب وہ اپنے اخلاق باختہ کام سر انجام دے رہے تھے جو شخص جس حالت میں تھا اسی حالت میں رہ گیا اور آج تک اسی حالت میں موجود ہے اس شہر کا زیادہ تر حصہ دریافت کر لیا گیا ہے جبکہ باقی کی کھدائی ابھی تک جاری ہے مو مپئی کی پختہ سڑک پر چلتے ہوئے ہر گھر میں موجود کچن باغات اور چشموں کو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے اس شہر کی صاف پانی کی فراہمی موجود تھی یہاں کے لوگوں کا شمار اس خطے کے امیر ترین لوگوں میں ہوا کرتا لیکن افسوس کہ ناقدروں نے اپنے پروردگار کی نعمتوں کا انتہائی غلط استعمال کیا اور آئندہ آنے والی قوموں کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نشان عبرت میں تبدیل ہو

 

About Muddasar Nadeem

Check Also

History of Isaf & Naila || یہ کہانی ہے ایک مرد اور ایک عورت کی

اس آرٹیکل کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتابوں کے علاوہ دوسری کئی کتابوں  سے مدد …

Leave a Reply

error: Content is protected !!